بغاوت کو ناکام بنانے پر مبارکباددی،رجب طیب اردوغان کے لیے سپاس نامہ کیاپیش
نئی دہلی، 26؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمود مدنی کی سربراہی میں ایک وفد نے آج ترکی کے سفیر بوراک اکبر سے دہلی میں واقع ان کے سفارت خانہ پر ملاقات کی اور ترکی میں فوج کے ایک گروپ کی طرف ہونے والی بغاوت کو نا کام بنانے کی کامیاب کوشش پر مبارک باد پیش کی اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور وہاں کے عوام کے ساتھ یکجہتی کااظہارکیا۔اس وفد میں سربراہ کے علاوہ ایڈوکیٹ شکیل احمد سید ، ایڈوکیٹ مولانا نیاز احمد فاروقی ( دونوں ارکان مجلس عاملہ جمعےۃ علماء ہند) اور مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعےۃ علماء ہند شریک تھے۔وفد نے سفیر ترکی کو پھولوں کا گلدستہ بھی پیش کیا۔اس موقع پر مولانا محمود مدنی نے جمعےۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری اور اپنی طرف سے صدراروغان کے لیے ایک سپاس نامہس پیش کیا، جس میں حکومت ترکی اوروہاں کے صدر کے ذریعے بغاوت کو فروتر کر نے پر ان کو مبارک پیش کرتے ہوئے ترکی عوام کی بھی ستائش کی گئی ہے۔یقیناًترکی کے عوام نے جس طرح اپنے ملک میں جمہوریت کی بقاء کے لیے ٹینکو ں اور توپوں کے سامنے خود کو سیساپلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا کرلیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے سازشوں کو ناکام بنادیا، وہ خود کو وطن پر جانثاری کی ایک نایاب مثال ہے۔سپاس نامہ میں عالمی مسائل سے متعلق صدر ترکی کی دانشمندانہ سوچ ، بہتر قیادت اور خوشحال ملک بنانے کی جد وجہدکو سراہتے ہوئے جمعےۃ علماء ہند نے ترکی میں جمہوریت پسندی، عوامی اتحاد اور مصائب کے وقت ایک ساتھ کھڑے ہونے کے جذبے کی تحسین کی ہے ، نیز صدر ترکی سے مشرق وسطی اور پڑوسی ممالک میں مسلکی شدت پسندی ، دہشت گردی اور دیگر داخلی وبیرونی انتشار کو حل کرانے کے لیے اپنے قائدانہ کردار ادا کرنے کی توقع کا اظہار کیا ہے۔سپاس نامہ میں ماضی میں جمعےۃ کے ا کابرخاص طور سے مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ اور مولانا حسین مدنی ؒ کے ترکی سے گہرے تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا کہ ان بزرگوں نے جنگ عظیم اول کے موقع پر انگریزوں کے مقابلے ترکی سربراہی میں قائم خلاف عثمانیہ کا بھر پور تعاون کیا تھا اور ملک میں برادران وطن کو شریک کرکے خلافت تحریک کی قیادت ور ہنمائی فرمائی تھی ۔ یہ اکابراس وقت کی ترکی حکومت کے خلاف انگریزوں کی حمایت سے پیش کردہ فتوی پر دستحظ نہ کرنے کی وجہ سے حجاز سے گرفتار ہوئے اور تین سال سے زائد مالٹا میں اسیری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔سپاس نامہ میں ساتھ ہی ترکی اور اس کی ترقی کے لیے بہتر امید وں کے ساتھ نیک تمناؤں کا اظہار کیا کہ صدر اردوغان بنیادی آزادی ، شفافیت ، انصاف اور قومی اتحاد کو اپنے ایجنڈا میں ترجیج دیں گے۔